ابنا: انہوں نے کہا کہ تہران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیاں طویل عرصے سے مذاکرات جاری ہیں اور اگر فریقین لچک کا مظاہرہ کریں تو بغداد مذاکرات کا خاطر خواہ نتیجہ نکل سکتا ہے۔
ادھر عالمی امور کے تجزیہ کار نے کہا ہے کہ مغرب کے پاس تہران کے یورینیم کی افزودگي کے حق کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئي چارہ نہیں ہے۔ سعداللہ زارعی نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استنبول مذاکرات کے اختتام پر یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ محترمہ کیتھرین ایشٹن کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پانج جمع ایک گروپ نے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیاں تسلیم کر لی ہیں۔ یاد رہے ایران اور پانج جمع ایک گروپ کے مذاکرت تئيس مئي کو بغداد میں ہونے والے ہیں۔.......
/169